آج کے حلات دیکھ کر لگتا ہے نواز شریف تب بهی ٹهیک
تها ۔جب اس نے ایٹمی دهماکے کئے ۔مجهے ڈاکٹر قدیر کا وہ بیان یاد ہے اگر
وزیراعظم نہ چاہتا ہم دهماکے نہ کرتے۔امریکہ نے نواز شریف کو آفر بهی دی ۔پر
نواز شریف نے انکار کر دیا جس کی وجہ سے اسے حکومت سے ہاتھ دهونے پڑے۔مشرف وہ جن
کو ئی دوست سہی سمجهتے،جب اس کو کسی نے جوتا منہ پر مارا تو مارنے والے سے پوچها
گیا تو اس کا یہ جواب تها میری ماں روتی تهی اس کے ظلموں پر، جس نے
ہمیں امریکہ کی جنگ میں ڈال دیا اور ملک کو برباد کر دی۔سب جانتے بش سے مشرف کی
وفاداریاں
اپنے ایر بیس ان کو دے دئیے ۔نواز شریف بس یہ غلطی ان کی کوئی بات نہ مانی اور ملک کا سوچا۔ ورنہ کیوں مشرف اپنے سال گرہ کی پوسٹ کرتا ہے فیس بک پرغزہ میں جارہیت کے خلاف ایک بیان تک نہیں آخر کیو ں؟ تاکہ امریکہ اسرائیل کی سپوٹ کم مہ ہو جائے؟
سمجهدار کے لئے اشارہ کا فی ہے
اپنے ایر بیس ان کو دے دئیے ۔نواز شریف بس یہ غلطی ان کی کوئی بات نہ مانی اور ملک کا سوچا۔ ورنہ کیوں مشرف اپنے سال گرہ کی پوسٹ کرتا ہے فیس بک پرغزہ میں جارہیت کے خلاف ایک بیان تک نہیں آخر کیو ں؟ تاکہ امریکہ اسرائیل کی سپوٹ کم مہ ہو جائے؟
سمجهدار کے لئے اشارہ کا فی ہے
No comments:
Post a Comment